آئی
معنی
١ - آئی ہوئی، موصول شدہ۔ نہ تو کچھ آئی کی شادی نہ گئی کا غم تھا خود طرحدار تھی جوبن تھا عجب دم خم تھا ( ١٨٦٤ء، واسوخت رعنا (شعلۂ جوالہ، ٤٠٩:٢) ) ١ - موت، قضا۔ دل کسی طرح چین پا جائے غیر کی آئی مجھ کو آ جائے ( ١٩٣٢ء، ریاض رضواں، ٢٧٨ ) ٢ - موقع، محل، باری۔ لگا تو لاکھ منھ غیروں کو جو حق ہے وہ کہہ دیتے بہت ہم ضبط کرتے پر نہ آئی پر رہا جاتا ( ١٨٧٢ء، عاشق لکھنوی، فیض نشان، ٥٨ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اردو زبان کے صدر 'آنا' سے صیغہ حالیہ تمام مشتق ہے اردو میں بطور اسم اور اسم صفت بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٢ء میں میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔