آئینہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - قلعی کیا ہوا شیشہ جس کی پشت پر مسالا لگا ہو اور جس میں چیزوں کا عکس نظر آئے، منھ دیکھنے کا شیشہ، مرآت۔  وہ آئینہ تو سنگ ظلم و استبداد نے توڑا تم اب دیکھو گے جلوہ کیوں کر اپنی خودنمائی کا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٣٨ ) ٢ - جس کے وجود یا عمل وغیرہ سے کسی کے خصوصیات ظاہر واضح ہوں، مظہر۔ "یہ ان کے دلی جذبات کا آئینہ ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٨٠ ) ٣ - صاف، شفاف، روشن، مجلّا۔  پیر فلک سے مانگ کے جاروب کہکشاں آئینہ کر دیا تھا مکاں مثل لامکاں      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ٢٣ ) ٤ - عیاں، ظاہر، واضح۔ "ظلمت و کدورت اختلاط سے دل شفاف ہو کر آئینہ ہو جائے۔"      ( ١٨٨٧ء، خیابان آفرینش، ٢٠ ) ٥ - شیشہ، کاچ۔ "ہر طرف . آئینہ تصویر کے لٹکے۔"      ( ١٨٤٧ء، عجائبات فرنگ، ١٥ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی ماخوذ ہے سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جس کے وجود یا عمل وغیرہ سے کسی کے خصوصیات ظاہر واضح ہوں، مظہر۔ "یہ ان کے دلی جذبات کا آئینہ ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٨٠ ) ٤ - عیاں، ظاہر، واضح۔ "ظلمت و کدورت اختلاط سے دل شفاف ہو کر آئینہ ہو جائے۔"      ( ١٨٨٧ء، خیابان آفرینش، ٢٠ ) ٥ - شیشہ، کاچ۔ "ہر طرف . آئینہ تصویر کے لٹکے۔"      ( ١٨٤٧ء، عجائبات فرنگ، ١٥ )

جنس: مذکر