آب
معنی
١ - آکسیجن اور ہائیڈروجن سے سیال مرکب، بے مزہ اور بے رنگ، پانی۔ بفیض آب نوید گل و گلاب آئی زمین خاک تھی پانی سے آب و تاب آئی ( ١٩٧٠ء، مراثی نسیم، ٢، ٣٦ ) ٢ - [ عناصر ] اربعہ عناصر میں سے ایک عنصر "اپنے منصب کا فرمان خاص لے کر اُسی کاشانہ آب و خاک میں واپس آ جاتے ہیں۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٣، ٣٥٦ ) ٣ - پسینہ (اکثر ترکیب میں)، جیسے : آب شرم، آب خجلت۔ کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور کہ آب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا ( ١٨٥١ء، مومن (ک)، ٨ ) ٤ - آنسو، آنسو کا قطرہ یا قطرے (اکثر ترکیب میں)۔ "چشم پرآب۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٣٨:١ ) ٥ - لعاب، تھوک، رال (عموماً اضافت کی صورت میں)، جیسے : آبِ دہن۔ آپ کے آب دہن کی ایک یہ روداد ہے واقعی اکسیر تھی آنکھوں سے اس پر صاد ہے ( ١٩١٩ء، جسمانی معجزے، آغا شاعر، ٧ ) ٦ - (اوس کا) قطرہ یا قطرے۔ چمن تر نہ شبنم کے ہے آب سوں کہ موں دھوئے ہیں پھول گلاب سوں ( ١٦٠٩ء، قطب مشتری، ٦٠ ) ٧ - پھلوں کا قدرتی عرق، کسی شے سے کشید کیا ہوا عرق۔ "سر کے بال گر جاتے ہیں ان کو آب برگ چقندر سے دھونے کی ضرورت ہے۔" ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٣، ٣٥٩ ) ٨ - شراب آب حیات بن گئی ناسخ شراب صاف جو اس نے جام آب سے اپنے لگائے ہونٹھ ( ١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ٢، ١٢٧ ) ٩ - رقیقِ مادہ جو پھپھولے یا چھالے سے پھوٹ کر بہے۔ آبلوں سے پائے مجنوں میں جو ٹپکا آب گرم جل گیا کوئی کوئی خار مغیلاں گل گیا ( ١٨٤٥ء، کلیاتِ ظفر، ١، ٥٧ ) ١٠ - [ دھاتی ] کیمیائی سیال میں حل کی ہوئی دھات، جیسے : آب زر۔ لکھتا جو نامہ شوق اس سیمبر کو آتش تحریر اس کو خامہ بے آب زر نہ کرتا ( ١٨٤٦ء، آتش (ک)، ٢٨ ) ١١ - [ طب ] پارہ۔ (خزائن الادویہ، 1:7) ١٢ - [ تصوف ] وہ فیض جو ان لوگوں کے لیے ہے، جنھوں نے اپنی ہستی کو فانی کر دیا ہے۔ (مصباح التعرف لارباب الصوف، 22) ١٣ - تلوار چھری وغیرہ کی کاٹ، دھار، تیزی۔ تجھ میں وہ آب ہے شیروں کا جگر پانی ہے دشمنوں کے لیے جنبش تری طوفانی ہے ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ٥١ ) ١٤ - عزت، آبرو، وقار۔ میں تابع توہیں سب کا نواب ہے ترے ہاتھ سب عزت اور آب ہے ( ١٧٩٤ء، جنگ نامہ دو جوڑا، معظم عباسی، ١١ ) ١٥ - صفائے باطن، خلوص۔ ہے دین ترا اب بھی وہی چشمہ صافی دین داروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے ( ١٨٩٢ء، دیوانِ حالی، ١٢٦ ) ١٦ - [ وقت ] گیارہویں رومی مہینے کا نام جس میں آفتاب برج اسد میں ہوتا ہے اور جو خزاں کے خاتمے کا وقت ہے۔ "اس کا طلوع چودھویں آب کی شب کو اور بارھویں شباط کی شب کو سقوط ہے۔" ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات اردو، ٧٤ ) ١٧ - تابندگی، درخشندگی، چمک دمک، براقی، جلا۔ "جس موتی میں آب نہیں وہ موتی نہیں بلکہ کنکر ہے۔" ( ١٩٠٧ء، ماہنامہ، مخزن، لاہور، جنوری، ٣١ ) ١٨ - تروتازگی، رونق، روپ۔ بفیض آب نوید گل و گلاب آئی زمین خاک تھی پانی سے اس میں آب آئی ( ١٩٧٠ء، مراثی نسیم، ٢، ٣٦ )
اشتقاق
لفظ آب (پانی) فارسی اور سنسکرت دونوں زبانوں میں 'آب' ہی مستعمل ہے۔ جبکہ اردو میں یہ لفظ فارسی سے آیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں 'نوسرہار' میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ عناصر ] اربعہ عناصر میں سے ایک عنصر "اپنے منصب کا فرمان خاص لے کر اُسی کاشانہ آب و خاک میں واپس آ جاتے ہیں۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٣، ٣٥٦ ) ٤ - آنسو، آنسو کا قطرہ یا قطرے (اکثر ترکیب میں)۔ "چشم پرآب۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٣٨:١ ) ٧ - پھلوں کا قدرتی عرق، کسی شے سے کشید کیا ہوا عرق۔ "سر کے بال گر جاتے ہیں ان کو آب برگ چقندر سے دھونے کی ضرورت ہے۔" ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٣، ٣٥٩ ) ١٦ - [ وقت ] گیارہویں رومی مہینے کا نام جس میں آفتاب برج اسد میں ہوتا ہے اور جو خزاں کے خاتمے کا وقت ہے۔ "اس کا طلوع چودھویں آب کی شب کو اور بارھویں شباط کی شب کو سقوط ہے۔" ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات اردو، ٧٤ ) ١٧ - تابندگی، درخشندگی، چمک دمک، براقی، جلا۔ "جس موتی میں آب نہیں وہ موتی نہیں بلکہ کنکر ہے۔" ( ١٩٠٧ء، ماہنامہ، مخزن، لاہور، جنوری، ٣١ )