آبائی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - 'آباء' کی طرف منسوب : جدی، موروثی۔ "مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی سادات کی آبائی میراث ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، مکاتیب اقبال، ٣٦٤:١ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'آباء' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے تحت 'ی' بطور 'لاحقۂ نسبت' لگائی گئی، اور صفت کے معنوں میں مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٥ء میں "حکایت سخن سنج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - 'آباء' کی طرف منسوب : جدی، موروثی۔ "مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی سادات کی آبائی میراث ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، مکاتیب اقبال، ٣٦٤:١ )

اصل لفظ: آب