آبرو

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چمک دمک، تابانی، درخشانی  پروانے کو تیش دی جگنو کو روشنی دی بخشا صدف کو گوہر، گوہر کو آبرو دی      ( ١٩١٠ء، سرور، خمکدہ، ٢٠ ) ٢ - عصمت، عفت، ناموس، پاکدامنی۔ "کوئی غیر مرد مجھے چھیڑے یا میری آبرو کا گاہک ہو جائے تو میں زہر کھا لوں۔"      ( ١٩٠٣ء، سرشار، بچھڑی ہوئی دلھن، ٥٨ ) ٣ - عزت، اعزاز، قدر و منزلت، ناموری، شہرت "تو اس سے کہیو یہ بڑی عزت آبرو والا بہادر شجاع مصر کا مالک اور بادشاہ ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦، ٦٨ ) ٤ - لاج، شرم۔  الٰہی اشک مصیبت کی آبرو رکھنا یہ بیکسی میں برے وقت پر ضرور آیا      ( ١٩٠٥ء، داغ، انتخابِ داغ، ١٣ ) ٥ - ساکھ، اعتبار، بھرم۔ "روپیہ کہاں مگر لالہ جی کی آبرو بنی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٨:١ ) ٦ - حیثیت، درجہ، قدر و قیمت۔ "یہ تھانہ صدر ہے اور اس کی آبرو کوتوالی جے پور کے برابر ہے۔"      ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستان عذر، ٢١٥ ) ٧ - شان و شوکت، ٹھاٹ باٹ۔  چاہیے عقبٰی کی عزت کا خیال منعمو یہ آبرو اچھی نہیں      ( ١٨٥٤ء، دیوانِ صبا، غنچہ آرزو، ١٠٧ )

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ 'آب' کے ساتھ فارسی ہی کا لفظ 'رو' بمعنی چہرہ لگا اور مختلف معنوں میں مستعمل ہے۔ فارسی سے مرکب ہی اردو میں داخل ہوا اور سب سے پہلے ١٧١٨ء میں "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - عصمت، عفت، ناموس، پاکدامنی۔ "کوئی غیر مرد مجھے چھیڑے یا میری آبرو کا گاہک ہو جائے تو میں زہر کھا لوں۔"      ( ١٩٠٣ء، سرشار، بچھڑی ہوئی دلھن، ٥٨ ) ٣ - عزت، اعزاز، قدر و منزلت، ناموری، شہرت "تو اس سے کہیو یہ بڑی عزت آبرو والا بہادر شجاع مصر کا مالک اور بادشاہ ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦، ٦٨ ) ٥ - ساکھ، اعتبار، بھرم۔ "روپیہ کہاں مگر لالہ جی کی آبرو بنی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٨:١ ) ٦ - حیثیت، درجہ، قدر و قیمت۔ "یہ تھانہ صدر ہے اور اس کی آبرو کوتوالی جے پور کے برابر ہے۔"      ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستان عذر، ٢١٥ )

اصل لفظ: آبْ
جنس: مؤنث