آبیاری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - سنچائی، پودوں اور کھیتوں کو پانی دینے کا عمل۔ "ایک آب گزر . زید کی زمین کی آب یاری کے لیے ضروری ہے۔" ( ١٩٠٢ء، ایکٹ معاہدۂ ہند (ترجمہ)، ٩٩ )
اشتقاق
فارسی مرکب 'آبیار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگا کر مرکب 'آبیاری' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "مزید الاموال" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سنچائی، پودوں اور کھیتوں کو پانی دینے کا عمل۔ "ایک آب گزر . زید کی زمین کی آب یاری کے لیے ضروری ہے۔" ( ١٩٠٢ء، ایکٹ معاہدۂ ہند (ترجمہ)، ٩٩ )
جنس: مؤنث