آتش

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آگ (حقیقی اور مجازی معنی میں)  نہیں ہے سرکشوں کو امن جوش بحر رحمت میں جو آب زندگی برسا حق آتش سم ٹھہرا     "اگر تم ایسا نہ کرتے تو آتشِ دوزخ تم کو چھو لیتی۔"      ( ١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٦٨:٣ )( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٨٣:٢ ) ٢ - [ کیمیا گری ]  سرخ گندھک

اشتقاق

یہ اصلاً فارسی کا لفظ ہے اور اردو میں اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آگ (حقیقی اور مجازی معنی میں)  نہیں ہے سرکشوں کو امن جوش بحر رحمت میں جو آب زندگی برسا حق آتش سم ٹھہرا     "اگر تم ایسا نہ کرتے تو آتشِ دوزخ تم کو چھو لیتی۔"      ( ١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٦٨:٣ )( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٨٣:٢ )

جنس: مؤنث