آتشک

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گرمی کی بیماری جس میں جسم پر خصوصاً زیر ناف سرخ دانے نمودار ہوتے اور رفتہ رفتہ زخم یا گہرے گھاؤ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ (یہ ایک متعدی مرض ہے)، آبلۂ فرنگ، باد فرنگ، آتش فارسی۔ "آتشک، سوزاک . غرض اقسام کی بیماریاں ان کو عارض ہوتی ہیں۔"      ( ١٨١٠ء، اخوان الصفا، ١٢٥ ) ٢ - آتش، آگ، اکثر مرکبات میں مستعمل جیسے : آتشک افروزی

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ 'آتش' کے ساتھ 'ک' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'آتشک' بنا۔ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٨٠ء میں 'مرزا سودا' کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گرمی کی بیماری جس میں جسم پر خصوصاً زیر ناف سرخ دانے نمودار ہوتے اور رفتہ رفتہ زخم یا گہرے گھاؤ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ (یہ ایک متعدی مرض ہے)، آبلۂ فرنگ، باد فرنگ، آتش فارسی۔ "آتشک، سوزاک . غرض اقسام کی بیماریاں ان کو عارض ہوتی ہیں۔"      ( ١٨١٠ء، اخوان الصفا، ١٢٥ )

اصل لفظ: آتَش
جنس: مؤنث