آثم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - گناہگار، عاصی، (خصوصاً) خطوط وغیرہ میں بطور انکسار اپنے لیے مستعمل۔ "اگر کوئی شخص کسی کے لیے زمین بوسی کرے گا . آثم اور گنہگار ٹھیرے گا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣، ١٦٦ )

اشتقاق

یہ اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے، سب سے پہلے ١٨٠١ء میں لطف کے ہاں "گلشن ہند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گناہگار، عاصی، (خصوصاً) خطوط وغیرہ میں بطور انکسار اپنے لیے مستعمل۔ "اگر کوئی شخص کسی کے لیے زمین بوسی کرے گا . آثم اور گنہگار ٹھیرے گا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣، ١٦٦ )

اصل لفظ: اثم