آج

قسم کلام: اسم ظرف زمان

معنی

١ - موجودہ زمانہ، عصر حاضر (بیشتر حرف جار یا ربط کے ساتھ)۔ "حضرت نے تمام آج کی خبر بولے۔"      ( ١٥٠٠ء، معراج العاشقین، ٢٦ ) ٢ - [ وقت ]  موجودہ دن، روز جو گزر رہا ہے، ساعت رواں (بیشتر حروف جار یا الف کے ساتھ)  کلائی کا ہے یہ عالم کہ بس صفائی ہے گلے میں شمع کے دیکھا ہے آج تک ناسور      ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، واجد علی شاہ، ٧ ) ١ - موجودہ دِن میں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کے دوران۔  کوفے میں عید قتل امام زمن ہے آج غل ہے ورود عترت خیبر شکن ہے آج      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ (ق)، ١ ) ٢ - اس دم، اس وقت، اس گھڑی۔ "یہ تیری بہو جی کہاں ہے آج?"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٤ ) ٣ - آج کل، ان دنوں، زمانہ حال میں۔ "جیسی جانفشانی سے اس نے بھائی کی اولاد کو پالا آج کوئی اپنے پیٹ کی اولاد نہ پالے گا۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٠ ) ٤ - جیتے جی، حین حیات میں (امیر اللغات، 64:1، نوراللغات، 73:1) ٥ - [ وقت - مجازا ]  فوراً، فی الفور (فرہنگ آصفیہ، 115:1)

اشتقاق

سنسکرت میں 'آدیہ' اور فارسی میں 'امروز' ہے۔ اردو میں یہ لفظ سنسکرت سے آیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موجودہ زمانہ، عصر حاضر (بیشتر حرف جار یا ربط کے ساتھ)۔ "حضرت نے تمام آج کی خبر بولے۔"      ( ١٥٠٠ء، معراج العاشقین، ٢٦ ) ٢ - اس دم، اس وقت، اس گھڑی۔ "یہ تیری بہو جی کہاں ہے آج?"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٤ ) ٣ - آج کل، ان دنوں، زمانہ حال میں۔ "جیسی جانفشانی سے اس نے بھائی کی اولاد کو پالا آج کوئی اپنے پیٹ کی اولاد نہ پالے گا۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٠ )

جنس: مذکر