آخر
معنی
١ - انجام، انتہا، حد، سرا۔ اے زندگی آخر نہیں تیری تگ و دو کا جس طرح کہ رہتی ہے سرگرم سفر موج ( ١٩٣٨ء، سلیم پانی پتی، افکار سلیم، ٦٣٨ ) ٢ - حشر، مآل (بیشتر برا)۔ "ہو چکے ہیں تم سے آگے دستور سو پھرو زمین میں تو دیکھو کیسا ہوا آخر جھٹلانے والوں کا۔" ( ١٧٩٠ء، ترجمہ قرآن، شاہ عبدالقادر، ٦١ ) ١ - آخری، بعد کا، موخر (زمانے کے اعتبار سے)۔ امی بھی ہر اک علم کے ماہر بھی یہی ہیں گنجینہ اول بھی ہیں آخر بھی یہی ہیں ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٦:٢ ) ٢ - پچھلا، پیچھے کا (مکان کے لحاظ سے)۔ "اب کے اس کا نمبر آخر ہو گیا۔" ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٢٦:١ ) ٣ - انجام کو پہنچا ہوا، تمام، ختم، مکمل۔ "ہر سماں فنا ہونے والا ہے، خوشی ختم ہو گی اور رنج آخر۔" ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، ١٠٨ ) ٤ - قریب ختم۔ اک روز ہوا میں در پہ حاضر تھی شام قریب دن تھا آخر ( ١٨٠٤ء، اسیر (امیراللغات، ٦٩:١) ) ٥ - مناسب، واجب، لازم (فرہنگ آصفیہ، 125:1) ١ - انجام کار، پچھلے درجے، نتیجے میں، آخر میں "کھاؤ پیو مزے اڑاؤ آخر کل مرنا ہے۔" ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٠، ٢٠، ١٠ ) ٢ - بہرحال۔ زاہد مے طہور بھی آخر شراب ہے مجھ کو تو منع کرتا ہے تو کب مجاز ہے ( ١٩١٠ء، جذباتِ نادر، ٢، ٢٥٢ ) ٣ - الحاصل، الغرض، قصہ مختصر۔ "آخر یمن کے شاہزادے کو خانساماں اور بہزاد خان کو میر بخش . بختیار کی فوج کا کیا۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٤٨ ) ٤ - چارو نا چار، مجبوراً "نہ معاف کرونگی تو کرونگی کیا آخر۔" ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ١٨:٤ ) ٥ - ضرور، مقرر، لازماً کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر تانہ دے یاد زمہریر آزاد ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٢٦ ) ٦ - زنہار، ہرگز۔ تم اپنے ظلم سے آخر نہ باز آؤ گے چلا نظیر سے لیجئے سلام رخصت کا ( نظیر اکبر آبادی (فرہنگ آصفیہ، ١٣٥:١) ) ٧ - اصل میں، درحقیقت، نفس الامر میں، واقعی (تجسس یا استفہام کے موقع پر) "میں یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔" ( ١٩٤٤ء، نواب صاحب کی ڈائری، ١٣١ )
اشتقاق
یہ لفظ عربی زبان کے ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے اور اردو میں بطور اسم صفت، اسم مذکر اور متعلق فعل مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - حشر، مآل (بیشتر برا)۔ "ہو چکے ہیں تم سے آگے دستور سو پھرو زمین میں تو دیکھو کیسا ہوا آخر جھٹلانے والوں کا۔" ( ١٧٩٠ء، ترجمہ قرآن، شاہ عبدالقادر، ٦١ ) ٢ - پچھلا، پیچھے کا (مکان کے لحاظ سے)۔ "اب کے اس کا نمبر آخر ہو گیا۔" ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٢٦:١ ) ٣ - انجام کو پہنچا ہوا، تمام، ختم، مکمل۔ "ہر سماں فنا ہونے والا ہے، خوشی ختم ہو گی اور رنج آخر۔" ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، ١٠٨ ) ١ - انجام کار، پچھلے درجے، نتیجے میں، آخر میں "کھاؤ پیو مزے اڑاؤ آخر کل مرنا ہے۔" ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٠، ٢٠، ١٠ ) ٣ - الحاصل، الغرض، قصہ مختصر۔ "آخر یمن کے شاہزادے کو خانساماں اور بہزاد خان کو میر بخش . بختیار کی فوج کا کیا۔" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٤٨ ) ٤ - چارو نا چار، مجبوراً "نہ معاف کرونگی تو کرونگی کیا آخر۔" ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ١٨:٤ ) ٧ - اصل میں، درحقیقت، نفس الامر میں، واقعی (تجسس یا استفہام کے موقع پر) "میں یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔" ( ١٩٤٤ء، نواب صاحب کی ڈائری، ١٣١ )