آخرت

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ عالم جہاں قیامت کے بعد دنیاوی اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور جزا سزا ملے گی، جزا و سزا کا دن، روز قیامت، عقبٰی۔ "ہلاکت ہے مشرکوں کے لیے جو زکات نہیں دیتے اور 'آخرت' کا انکار کرتے ہیں۔"      ( ١٩٥٧ء، ابوالکلام آزاد، رسول عربی، ٥٢ )

اشتقاق

یہ لفظ عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ اردو زبان میں بھی بطور اسم ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ عالم جہاں قیامت کے بعد دنیاوی اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور جزا سزا ملے گی، جزا و سزا کا دن، روز قیامت، عقبٰی۔ "ہلاکت ہے مشرکوں کے لیے جو زکات نہیں دیتے اور 'آخرت' کا انکار کرتے ہیں۔"      ( ١٩٥٧ء، ابوالکلام آزاد، رسول عربی، ٥٢ )

اصل لفظ: اخر
جنس: مؤنث