آخری

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - (سلسلے میں) اخیر کا، سب سے بعد کا، انتہائی، اختتامی، خاتمے کا۔  اس کے کوچے میں مری خاک کو کرنا برباد آخری تجھ سے وصیت ہے نسیم سحری      ( ١٩١٠ء، سرور جہاں آبادی، خمکدہ سرور، ٢٠ ) ٢ - قطعی، مختتم، دو ٹوک، جیسے : آخری بات کہہ دو کتنے تک لینا ہے۔ "جب تک 'آخری' فیصلہ نہ ہو ان کا بال نہ بیکا ہو"      ( ١٩٢٠ء، عزیزہ مصر، ٣٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق، اسم فاعل 'آخِر' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آخری' بنا اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٩٧ء، میں "پنج گنج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - قطعی، مختتم، دو ٹوک، جیسے : آخری بات کہہ دو کتنے تک لینا ہے۔ "جب تک 'آخری' فیصلہ نہ ہو ان کا بال نہ بیکا ہو"      ( ١٩٢٠ء، عزیزہ مصر، ٣٣ )

اصل لفظ: اخر