آدر

قسم کلام: اسم مجرد ( مذکر، مؤنث )

معنی

١ - عزت، تعظیم، توقیر۔ "یہ علم انسان کا جوہر ہے، اسی سے آدمی کی آدر ہے"      سب فرش سے اٹھا کر بٹھلایا جوتیوں پر مفلس کو ہر مکاں میں آدر ملا تو ایسا      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٧٠ )( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٢٣:٢ ) ٢ - تواضع، آؤ بھگت۔ "گھر آئے کی آدر سبھی کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٥٠ )

اشتقاق

یہ اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو زبان میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء میں "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عزت، تعظیم، توقیر۔ "یہ علم انسان کا جوہر ہے، اسی سے آدمی کی آدر ہے"      سب فرش سے اٹھا کر بٹھلایا جوتیوں پر مفلس کو ہر مکاں میں آدر ملا تو ایسا      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٧٠ )( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٢٣:٢ ) ٢ - تواضع، آؤ بھگت۔ "گھر آئے کی آدر سبھی کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٥٠ )