آدمیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مروت، حسن خلق، ملنساری، تہذیب، سلیقہ۔  ہے ناز اپنی تہذیب پر جن کو اتنا نہیں آدمیت گئی ان کو چھو بھی      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خان، ٨٥ ) ٢ - آدمی ہونے کی حالت، انسانی فطرت۔  اگر غایت یہی تھی ہستی انساں کی فطرت سے تو باز آیا میں ایسی زیست ایسی آدمیت سے      ( ١٩٢٦ء، روح رواں، ١٣٠ ) ٣ - بلوغ، شباب۔  آدمیت میں قدم رکھتا ہے بچپن ان کا اپنے سایے سے جھجکتے ہیں پریرو ہو کر    ( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ١٠٧ ) ٤ - عقل و شعور  آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیوان ہی رہا    ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ٤٨ )

اشتقاق

عبرانی زبان کے اصل لفظ 'ادمہ' سے ماخوذ اسم 'آدم' کے ساتھ عربی قواعد کے مطابق پہلے 'یائے مشدد' بطور لاحقۂ نسبت اور پھرْت، بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'آدمیت' بنا۔ اردو میں اسم مؤنث مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: اَدمہ
جنس: مؤنث