آدھا
معنی
١ - برابر کے دو حصوں میں سے ایک حصہ، 1/2، نصف ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا تو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھا ( ١٩٠٥ء، دیوان انجم، ١٢ ) ٢ - نرم و نازک، بہت جلد اثر قبول کرنے والا۔ "پردیسی کا دل آدھا ہوتا ہے۔" ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٣٤:١ ) ٣ - ناقص نبی کے صدقے عبداللہ عاشق عشق میں سب ہیں آدھے توں ہے سارا ( ١٦٢٢ء، عبداللہ قطب شاہ، د، ٣٤ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کا اصل لفظ 'اردتھ' ہے جوکہ اردو میں 'آدھ' مستعمل ہے۔ آدھ کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ مذکر لگانے سے 'آدھا' بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - نرم و نازک، بہت جلد اثر قبول کرنے والا۔ "پردیسی کا دل آدھا ہوتا ہے۔" ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٣٤:١ )