آدھی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آدھا کی تانیث۔  چنو لندن میں جا کر سائمن کی میز کے ریزے تمھیں آدھی مبارک ہو ہمیں ساری مبارک ہو      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خان، ٧٦٩ ) ١ - آدھی رات، آدھی رات کا وقت، رات کے بارہ یا ساڑھے بارہ بجے کا وقت یا باج۔ "دس گیارہ بجے رات تک کچریاں سی پکتی رہیں، آدھی کا عمل تھا کہ بیگم کی آواز گونجی۔"      ( ١٩٣٢ء، بیلہ میں میلہ، ٦٧ ) ٢ - ایک پیسے کی تین پائی میں سے ہر ایک (جس کا سکہ برصغیر میں کوئی تقریباً بیسویں صدی کی پانچویں دہائی تک رائج تھا)۔ "کوڑی کوڑی پر جان دیتے ہیں، آدھی، آدھی جوڑ کر رکھتے ہیں۔"      ( ١٩٣٨ء، دلی کا سنبھالا، ٧٩ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'اردتھ' کا اردو مستعمل 'آدھ' ہے اور اس کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ مذکر لگانے سے 'آدھا' بنا اور 'ی' بطور لاحقۂ مؤنث لگانے سے 'آدھی' بنا۔ اردو میں اسم اور صفت دونوں معنی میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٩٥ء میں "دیپک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آدھی رات، آدھی رات کا وقت، رات کے بارہ یا ساڑھے بارہ بجے کا وقت یا باج۔ "دس گیارہ بجے رات تک کچریاں سی پکتی رہیں، آدھی کا عمل تھا کہ بیگم کی آواز گونجی۔"      ( ١٩٣٢ء، بیلہ میں میلہ، ٦٧ ) ٢ - ایک پیسے کی تین پائی میں سے ہر ایک (جس کا سکہ برصغیر میں کوئی تقریباً بیسویں صدی کی پانچویں دہائی تک رائج تھا)۔ "کوڑی کوڑی پر جان دیتے ہیں، آدھی، آدھی جوڑ کر رکھتے ہیں۔"      ( ١٩٣٨ء، دلی کا سنبھالا، ٧٩ )

اصل لفظ: اَردتھ
جنس: مؤنث