آرا

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - ایک ہلالی شکل کا دندانے دار آہنی اوزار جس کے دونوں سروں پر لکڑی کا دستہ ہوتا ہے اور جس کو دونوں طرف سے دو آدمی پکڑ کر موٹی کڑیاں چیرتے ہیں۔  درخت بید مجنوں کاٹتا ہے دشت میں مجنوں ملا ہے کیا اسے آرا مرے چاک گریباں کا      ( ١٩٣٨ء، ظریف، ک، ٥:١ ) ٢ - پیّے کے گھیرے اور مرکزی حصے کے درمیان لگی ہوئی لکڑی یا لوہے کی سلاخ، تان، اسپوک۔ "گاڑی پر سے کودے اور پہیے کے اندر ہاتھ ڈال کر آرے کو پکڑ لیا۔ گھوڑا بھڑکا، گاڑی ہل نہ سکی۔"      ( ١٩٣٦ء، ہنرمندان اودھ، ١١٥ ) ٣ - تنور سے روٹی نکالنے کا آلہ، لوہے کی سلاخ جس کا سرا چوڑا ہوتا ہے اور جو روٹی کو تنور سے جدا کرتا ہے۔ (نوادر الفاظ، 21)

اشتقاق

یہ اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے، فارسی میں 'ارّہ' مستعمل ہے قیاساً یہ بھی سنسکرت ہی سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء، میں قلی قطب شاہ کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - پیّے کے گھیرے اور مرکزی حصے کے درمیان لگی ہوئی لکڑی یا لوہے کی سلاخ، تان، اسپوک۔ "گاڑی پر سے کودے اور پہیے کے اندر ہاتھ ڈال کر آرے کو پکڑ لیا۔ گھوڑا بھڑکا، گاڑی ہل نہ سکی۔"      ( ١٩٣٦ء، ہنرمندان اودھ، ١١٥ )

جنس: مذکر