آراستہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سجایا ہوا، مزین، اسباب آرائش و زیبائش سے درست، بنا سنورا۔  تھے معدن جواہر و صدکان علم و فن آراستہ ہمیں سے تھا ایوان علم و فن      ( ١٩٣٤ء، رونق، کلام رونق، ٢٢ ) ٢ - درست، لیس، تیار، مرتب، برپا۔ "نہ وہاں مجالس عزا کا قیام ہوتا ہے، نہ بزم ماتم آراستہ کی جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرات نیاز، ١٠٤ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'آراستن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'ہ' بطور علامت حالیہ تمام لگانے سے 'آراستہ' بنا، جوکہ بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - درست، لیس، تیار، مرتب، برپا۔ "نہ وہاں مجالس عزا کا قیام ہوتا ہے، نہ بزم ماتم آراستہ کی جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرات نیاز، ١٠٤ )

اصل لفظ: آراستن
جنس: مؤنث