آرڈر

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - حکم "ہم ہر آرڈر کی تعمیل کے پابند نہیں۔"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، ٦٧ ) ٢ - کسی سامان کی تیاری یا فراہمی کی فرمائش (جو کسی تاجر یا کارخانے دار وغیرہ کو دی جائے)۔ "ایک روز سکندر آباد جا، ایلن اینڈ کمپنی کو کئی ہزار کے فرنیچر کا آرڈر دے دیا۔"      ( ١٩٤٤ء، نواب صاحب کی ڈائری، ٧٤ ) ٤ - تنظیم، نظام، (مجازاً) امن۔ "آرڈر قائم کرنے کا خیال تھا اور اب تک ہے۔"      ( ١٩١١ء، اقبال نامہ، ٣٦:٢ )

اشتقاق

یہ اصلاً انگریزی زبان کا لفظ ہے اور انگریزی زبان میں بطور فعل اور اسم دونوں طرح مستعمل ہے جبکہ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٩ء میں "دیوانجی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حکم "ہم ہر آرڈر کی تعمیل کے پابند نہیں۔"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، ٦٧ ) ٢ - کسی سامان کی تیاری یا فراہمی کی فرمائش (جو کسی تاجر یا کارخانے دار وغیرہ کو دی جائے)۔ "ایک روز سکندر آباد جا، ایلن اینڈ کمپنی کو کئی ہزار کے فرنیچر کا آرڈر دے دیا۔"      ( ١٩٤٤ء، نواب صاحب کی ڈائری، ٧٤ ) ٤ - تنظیم، نظام، (مجازاً) امن۔ "آرڈر قائم کرنے کا خیال تھا اور اب تک ہے۔"      ( ١٩١١ء، اقبال نامہ، ٣٦:٢ )

جنس: مذکر