آزردہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خفا، ناراض۔  اب یاس کے پتلوں کو نہیں آس خدا سے لب آہ سے برہم دل آزردہ دعا سے      ( ١٩٤٠ء، بیخود، کلیات، ١٠١ ) ٢ - رنجیدہ، افسردہ، اداس۔ "پھر کچھ آزردہ ہوتے ہوئے کہا سرکار آپ لوگ دولت والے ہو پڑھے لکھے ہو اس لیے مجھے بیوقوف بنا سکتے ہو۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٨ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر'آزردن' سے علامت مصدر'ن' گرا کر'ہ' لگانے سے حالیہ تمام 'آزردہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں سب رس میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - رنجیدہ، افسردہ، اداس۔ "پھر کچھ آزردہ ہوتے ہوئے کہا سرکار آپ لوگ دولت والے ہو پڑھے لکھے ہو اس لیے مجھے بیوقوف بنا سکتے ہو۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٨ )

اصل لفظ: آزُرْدَن
جنس: مذکر