آزمانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - جانچنا، پرکھنا، امتحان کرنا۔ "ابراہیم کو ان کے پروردگار نے چند باتوں میں آزمایا۔"      ( ١٦٤٩ء، خاور نامہ، ٢٧٢ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'آزمودن' سے اسم فاعل 'آزما' مشتق ہے۔ اردو میں بطور لاحقۂ فاعلی اور صیغہ امر مستعمل ہے، 'آزما' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'آزمانا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جانچنا، پرکھنا، امتحان کرنا۔ "ابراہیم کو ان کے پروردگار نے چند باتوں میں آزمایا۔"      ( ١٦٤٩ء، خاور نامہ، ٢٧٢ )

اصل لفظ: آزمودن