آزمودہ
معنی
١ - جانچا ہوا، پرکھا ہوا، تجربے میں آیا ہوا، مجرب۔ "آدھی رات . حضور قلب کے لیے وقت مناسب ہے جس کو مقبولیت دعا میں مدخل عظیم ہے اور یہ آزمودہ بات ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣، ١٤٩ )
اشتقاق
فارسی مصدر'آزمُوْدَنْ' سے علامت مصدر'ن' گرا کر 'ہ' بطور لاحقۂ حالیہ تمام لگانے سے 'آزمودہ' بنا جوکہ فارسی میں حالیہ تمام اور اسم صفت دونوں طرح مستعمل ہے اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے، سب سے پہلے ١٨٥٤ء میں "دیوان اسیر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جانچا ہوا، پرکھا ہوا، تجربے میں آیا ہوا، مجرب۔ "آدھی رات . حضور قلب کے لیے وقت مناسب ہے جس کو مقبولیت دعا میں مدخل عظیم ہے اور یہ آزمودہ بات ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣، ١٤٩ )