آس

قسم کلام: اسم مجرد ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - توقع، امید۔ "آج . مجھے زندگی کی آس ہوئی ہے۔"      ( ١٩٢٠ء، عزیزہ مصر، ١٦٣ ) ٢ - آسرا، سہارا، پناہ، مدد، حمایت  یہی تو ایک ہے بازو شہ مدینہ کا حرم کی آس ہے اور آسرا سکینہ کا    ( ١٩٧١ء، مرثیہ یاور اعظمی، ١٣ ) ٣ - لاگ جس کی مدد یا لگاؤ سے کوئی کام انجام پائے۔ "بغیر پٹ بغیر آس' پیتل کوں کر دکھلاؤں گا سنے تی خاص۔"    ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٧٠ ) ٥ - حمل، لڑکے بالے کی امید۔ "کیوں بیگم صاحبہ صاحبزادی کی شادی کو برس روز سے زیادہ ہوا اللہ رکھے کچھ آس ہے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٠١:١ ) ٦ - بال بچے، آل اولاد، ذریات۔ "اپنی آس کے سر پر ہاتھ رکھ جا۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٥٩:١ ) ٧ - آواز سنگت والوں کا آ آ کر کے گویّے یا سوز خواں کو سہارا دینے کا عمل، ستار، سارنگی یا بانسری وغیرہ کے ساتھ ضمنی ساز کی سہارا دینے والی آواز تاکہ تسلسل، لے یا رنگ قائم رہے۔  عنادل جو ہوتے ہیں نغمہ سرا انھیں آس دیتی ہے موج صبا      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٣٥٧ ) ٨ - [ کاریگری ]  ٹیک، ٹیکن، ٹکاؤ، اڑواڑ، سہارا، پشتہ۔ "کڑی میں آس لگا کر چشمے کی اینٹیں نکال ڈالو۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٠١:١ ) ٩ - اعتماد، اعتبار، بھروسا  باسی پھولوں میں باس کیا دور گئے کی آس کیا      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٥٩:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'آشا' ہے۔ اردو زبان میں داخل ہو کر 'آس' مستعمل ہوا۔ سب سے پہلے ١٤٩٦ء میں شمس العشاق کے "خوش نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - توقع، امید۔ "آج . مجھے زندگی کی آس ہوئی ہے۔"      ( ١٩٢٠ء، عزیزہ مصر، ١٦٣ ) ٣ - لاگ جس کی مدد یا لگاؤ سے کوئی کام انجام پائے۔ "بغیر پٹ بغیر آس' پیتل کوں کر دکھلاؤں گا سنے تی خاص۔"    ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٧٠ ) ٥ - حمل، لڑکے بالے کی امید۔ "کیوں بیگم صاحبہ صاحبزادی کی شادی کو برس روز سے زیادہ ہوا اللہ رکھے کچھ آس ہے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٠١:١ ) ٦ - بال بچے، آل اولاد، ذریات۔ "اپنی آس کے سر پر ہاتھ رکھ جا۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٥٩:١ ) ٨ - [ کاریگری ]  ٹیک، ٹیکن، ٹکاؤ، اڑواڑ، سہارا، پشتہ۔ "کڑی میں آس لگا کر چشمے کی اینٹیں نکال ڈالو۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٠١:١ )

اصل لفظ: آشا