آسائش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - راحت، آرام، سکھ، چین، سکون۔ "مکان تھا بہت وسیع مگر مکینوں کی آسائش کے لیے اتنا موزوں نہ تھا۔"      ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٣ ) ٢ - فارغ البالی، فراغت، بے فکری۔ "کچھ دنوں الور میں انھوں نے عزت اور آسائش سے بسر کی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٨٤ )

اشتقاق

یہ لفظ فارسی مصدر'آسودن' سے حاصل مصدر مشتق ہے۔ اردو میں داخل ہو کر بھی اسی طرح مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - راحت، آرام، سکھ، چین، سکون۔ "مکان تھا بہت وسیع مگر مکینوں کی آسائش کے لیے اتنا موزوں نہ تھا۔"      ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٣ ) ٢ - فارغ البالی، فراغت، بے فکری۔ "کچھ دنوں الور میں انھوں نے عزت اور آسائش سے بسر کی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٨٤ )

اصل لفظ: آسُودَن
جنس: مؤنث