آسامی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - آسام میں بولی جانے والی زبان۔ "آسامی کی قابل ذکر نوعیت (یہ) ہے کہ اس میں ہند آریائی ابتدائی (س) کی (خ) ہو گئی ہے مثلاً (خات) 'سات' سنسکرت (سپت)۔"      ( ١٩٤٢ء، آریائی زبانیں، ٥٩ ) ١ - بھارت کے صوبہ آسام سے منسوب، آسام کا رہنے والا، آسام کا سامان۔ "ایک آسامی فیل بان نے جو بہ مقدار دو یا تین ہاتھیوں کے فاصلے کے آگے تھا پلٹ کر خفگی کے لہجے میں کہا۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٣١٣ )

اشتقاق

'آسام' اسم معرفہ ہے اغلب امکان ہے کہ یہ لفظ سنسکرت زبان سے تعلق رکھتا ہے، 'اسام' کے ساتھ فارسی قاعدے کے مطابق 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آسامی' بنا۔ سب سے پہلے ١٩٠١ء میں "جنگل میں منگل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آسام میں بولی جانے والی زبان۔ "آسامی کی قابل ذکر نوعیت (یہ) ہے کہ اس میں ہند آریائی ابتدائی (س) کی (خ) ہو گئی ہے مثلاً (خات) 'سات' سنسکرت (سپت)۔"      ( ١٩٤٢ء، آریائی زبانیں، ٥٩ ) ١ - بھارت کے صوبہ آسام سے منسوب، آسام کا رہنے والا، آسام کا سامان۔ "ایک آسامی فیل بان نے جو بہ مقدار دو یا تین ہاتھیوں کے فاصلے کے آگے تھا پلٹ کر خفگی کے لہجے میں کہا۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ٣١٣ )

اصل لفظ: آسام
جنس: مؤنث