آسان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سہل، جو کٹھن نہ ہو، جو مشکل نہ ہو، جو امکان میں ہو، دشوار کی ضِد۔ "آپ کو جب دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو ان میں جو آسان ہوتی اس کو اختیار فرماتے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٨٧:٢ ) ١ - آسانی کے ساتھ، بغیر کسی دشواری کے، بلا تکلف و تامل۔  توں جاوے گا آسان واں اندروں وہاں تھے بھی مشکل ہے آناں بروں      ( ١٦٤٩ء، خاورنامہ، ٤٧٠ )

اشتقاق

یہ لفظ فارسی مصدر 'آسودن' سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہو کر اسی طرح ہی مستعمل ہے البتہ اردو میں بعض اوقات بطور متعلق فعل بھی مستعمل ملتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سہل، جو کٹھن نہ ہو، جو مشکل نہ ہو، جو امکان میں ہو، دشوار کی ضِد۔ "آپ کو جب دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو ان میں جو آسان ہوتی اس کو اختیار فرماتے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٨٧:٢ )

اصل لفظ: آسُوْدَن