آسودگی
معنی
١ - راحت، آرام، سکھ، اطمینان۔ "دولت سے ہرگز ہرگز آسودگی حاصل نہیں ہوتی۔" ( ١٨٧٣ء، بنات النعش، ٤٢ ) ٢ - کسی بات سے جی بھر جانے کی کیفیت، سیری۔ "کھانے کے بعد آسودگی، پینے کے بعد سیری بدیہی تجربیات میں ہے۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٦٩:٣ ) ٣ - سکون، ٹھہراؤ، اطمینان۔ مری بہار کی آسودگی میں اے مسعود سنا ہے تو ہی فقط بیقرار باقی ہے ( ١٩٤٩ء، دو نیم، ٩٩ )
اشتقاق
فارسی زبان کے مصدر 'آسُودن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'آسودگی' بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - راحت، آرام، سکھ، اطمینان۔ "دولت سے ہرگز ہرگز آسودگی حاصل نہیں ہوتی۔" ( ١٨٧٣ء، بنات النعش، ٤٢ ) ٢ - کسی بات سے جی بھر جانے کی کیفیت، سیری۔ "کھانے کے بعد آسودگی، پینے کے بعد سیری بدیہی تجربیات میں ہے۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٦٩:٣ )