آشوبی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - آشوب کی حالت یا کیفیت میں مبتلا۔ "انسان میں رو ہے . پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے اور دیگر دو انواع جانوروں میں آشوبی . پیدا کرتی ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ١٧١ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'آشفتن' سے فعل متعدی 'آشوبیدن' سے حاصل مصدر 'آشوب' کےساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے آشوبی بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٦٧ء میں "بنیادی خرد حیاتیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آشوب کی حالت یا کیفیت میں مبتلا۔ "انسان میں رو ہے . پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے اور دیگر دو انواع جانوروں میں آشوبی . پیدا کرتی ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ١٧١ )

اصل لفظ: آشفتن