آغاز

قسم کلام: اسم حاصل مصدر ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - شروع، ابتدا، عنوان، انجام کی ضد۔ "فلسفے پر یقین رکھنے کے لیے سب سے پہلی بحث آغاز آفرینش کی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرت النبی، ٣، ٥٥ ) ٢ - ابتدائی حصہ، شروع کا دور۔ "آغاز کلام میں معجزے کا جو مفہوم بیان کیا جا چکا ہے اس سے معلوم ہوا ہو گا کہ معجزہ نبوت کی کوئی منطقی دلیل نہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی،٣، ١٧٦ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'آغازیدن' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو زبان میں بھی بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شروع، ابتدا، عنوان، انجام کی ضد۔ "فلسفے پر یقین رکھنے کے لیے سب سے پہلی بحث آغاز آفرینش کی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرت النبی، ٣، ٥٥ ) ٢ - ابتدائی حصہ، شروع کا دور۔ "آغاز کلام میں معجزے کا جو مفہوم بیان کیا جا چکا ہے اس سے معلوم ہوا ہو گا کہ معجزہ نبوت کی کوئی منطقی دلیل نہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی،٣، ١٧٦ )

اصل لفظ: آغازِیدن