آغوشی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - آغوش سے منسوب، لے پالک، متبنٰی، گود لیا ہوا۔ "داغ کی آغوشی بیٹی لاڈلی بیگم ان کے بڑے بھائی ممتازالدین احمد خان سے بیاہی گئی تھیں۔"      ( تمکین کاظمی، داغ، ٢٢٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم جامد 'آغوش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آغوشی' بنا۔ سب سے پہلے ١٩٥٨ء میں "اردو کی ادبی تاریخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آغوش سے منسوب، لے پالک، متبنٰی، گود لیا ہوا۔ "داغ کی آغوشی بیٹی لاڈلی بیگم ان کے بڑے بھائی ممتازالدین احمد خان سے بیاہی گئی تھیں۔"      ( تمکین کاظمی، داغ، ٢٢٣ )

اصل لفظ: آغوش