آفتی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - مصیبت والا، پریشان کن۔ "چوتھے دیس بھی یو جھگڑا آفتی نبڑیا نہینچ تھا۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١٨١ ) ٢ - آفت زدہ، مصیبت کا مارا۔ "وہ کمبخت اور آفتی تھا کہ جس کی تمام خوشیاں غم و الم کے ساتھ بدل گئی تھیں۔"      ( ١٨٩١ء، قصہ حاجی بابا اصفہانی، ٥١٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ 'آفت' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے تحت ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آفتی' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مصیبت والا، پریشان کن۔ "چوتھے دیس بھی یو جھگڑا آفتی نبڑیا نہینچ تھا۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١٨١ ) ٢ - آفت زدہ، مصیبت کا مارا۔ "وہ کمبخت اور آفتی تھا کہ جس کی تمام خوشیاں غم و الم کے ساتھ بدل گئی تھیں۔"      ( ١٨٩١ء، قصہ حاجی بابا اصفہانی، ٥١٩ )

اصل لفظ: اوف
جنس: مؤنث