آفریدی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - سرحدی پٹھانوں کی ایک گوت کا نام۔ "اخبار میں آفریدیوں کے ایک حملے کا حال لکھا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، مکتوبات حالی، ٣١٤:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ ہے بطور اسم معرفہ مستعمل ہے۔ اغلب امکان ہے کہ 'آفریدون' سے منسوب ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٣٣ء میں "داستان رنگین" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - سرحدی پٹھانوں کی ایک گوت کا نام۔ "اخبار میں آفریدیوں کے ایک حملے کا حال لکھا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، مکتوبات حالی، ٣١٤:٢ )

جنس: مذکر