آلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ایسا زخم جو مندمل ہو کر پختہ نہ ہوا ہو، ہرا، کچا (زخم)۔  رستے ہیں اب کے سال کہ بہتے ہیں دیکھیے پھر فصل گل میں زخم دِل آلے ہوئے تو ہیں      ( ١٩٤١ء، فانی، کلیات، ١٤٧ ) ٢ - گیلا، نم۔ 'مختلف پودوں کے آلے اور غیر آلے مادوں کے تناسب کی ایک فہرست بھی لگائی گئی ہے۔"      ( ١٨٩١ء، کسانی کی پہلی کتاب، ٢:١ ) ٣ - ٹھگ۔ (نوراللغات، 126:1)

اشتقاق

ہندی زبان کے اصل لفظ 'آل' کے ساتھ ہندی قاعدہ کے مطابق 'ا' بطور لاحقہ صفت لگانے سے 'آلا' بنا۔ سب سے پہلے اردو میں ١٧٩٥ء قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - گیلا، نم۔ 'مختلف پودوں کے آلے اور غیر آلے مادوں کے تناسب کی ایک فہرست بھی لگائی گئی ہے۔"      ( ١٨٩١ء، کسانی کی پہلی کتاب، ٢:١ )

اصل لفظ: آل
جنس: مذکر