آلکس

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کاہلی، سستی۔ "جاڑے کے موسم میں صبح کی نماز کو اٹھتے ہوئے مجھے بھی آلکس آ جاتی تھی۔"      ( ١٩٣٩ء، شمع، ١٩٤ ) ٢ - اونگھ، نیند۔ (فرہنگ آصفیہ، 217:1)

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں اصلی معنی اور اصلی حالت میں ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٨٢ء میں "کلیات علم طب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کاہلی، سستی۔ "جاڑے کے موسم میں صبح کی نماز کو اٹھتے ہوئے مجھے بھی آلکس آ جاتی تھی۔"      ( ١٩٣٩ء، شمع، ١٩٤ )

جنس: مؤنث