آلکسی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سست، کاہل۔ (پلیٹس) ١ - کاہلی، سستی، آلکس۔ "آلکسی تو ان کو بھی ہوتی ہو گی مگر جس طرح ان کا دن گزرتا ہے وہ دیکھنے کے لائق ہے۔"      ( ١٩٠٩ء، گدڑی میں لعل، ٥٠ )

اشتقاق

ہندی زبان میں اسم 'آلکس کے ساتھ ی' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'آلکسی' بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٧٣ء میں "نبات النعش" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - کاہلی، سستی، آلکس۔ "آلکسی تو ان کو بھی ہوتی ہو گی مگر جس طرح ان کا دن گزرتا ہے وہ دیکھنے کے لائق ہے۔"      ( ١٩٠٩ء، گدڑی میں لعل، ٥٠ )

اصل لفظ: آلْکَس
جنس: مؤنث