آلی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - آلہ سے منسوب،ذریعے یا وسیلے سے تعلق رکھنے والا۔ "احساس مراد ہے اس اثر کے شعور سے جوکہ نظام آلی پر کسی مؤثر کی تاثیر سے حادث ہوتا ہے۔"    ( ١٩٣١ء، رسوا، تنقیدی مراسلات، ٤٢ ) ٢ - اوزار سے تعلق رکھنے والا۔ "جسیمہ کو محض تحریک آلی سے مثلاً شیشہ محافظ کو تھپ تھپا کر یا تحریک برقی پہونچا کر چھیڑا جائے۔"    ( ١٩٣١ء، نسیجیات، ٦٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان کے اسم جامد'آلہ' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے مطابق 'ہ' کو حذف کر کے 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آلی' بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٣١ء، میں "نسیجیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آلہ سے منسوب،ذریعے یا وسیلے سے تعلق رکھنے والا۔ "احساس مراد ہے اس اثر کے شعور سے جوکہ نظام آلی پر کسی مؤثر کی تاثیر سے حادث ہوتا ہے۔"    ( ١٩٣١ء، رسوا، تنقیدی مراسلات، ٤٢ ) ٢ - اوزار سے تعلق رکھنے والا۔ "جسیمہ کو محض تحریک آلی سے مثلاً شیشہ محافظ کو تھپ تھپا کر یا تحریک برقی پہونچا کر چھیڑا جائے۔"    ( ١٩٣١ء، نسیجیات، ٦٦:١ )

اصل لفظ: آلہ
جنس: مؤنث