آماج

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نشانہ، ہدف، جس چیز یا جس مقام کو تاک کر تیر یا گولی لگائیں۔  ہر برق جو کوندی ہے گری ہے وہ تمہیں پر ہر فتنہ جب اٹھتا ہے تمہیں بنتے ہو آماج      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خان، ١٦٣ ) ٢ - زمین ناپنے کا ایک آلہ جس کا طول پانسو گز ہوتا ہے۔ "ہر آماج موافق دس زہموں کے ہے اور ہر زہمہ پچاس گز کا ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، عقل و شعور، ١٣٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اردو میں اصلی حالت اور معنی میں ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - زمین ناپنے کا ایک آلہ جس کا طول پانسو گز ہوتا ہے۔ "ہر آماج موافق دس زہموں کے ہے اور ہر زہمہ پچاس گز کا ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، عقل و شعور، ١٣٢ )

جنس: مذکر