آماسیدہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - سوجا ہوا، آماس کیا ہوا، متورم۔ "انگلیاں آماسیدہ ہو جاتی ہیں۔" ( ١٨٨٢ء، کلیات علم طب، ٥٥٦:٢ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مصدر 'آماسیدن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'ہ' بطور لاحقۂ حالیہ تمام لگانے سے 'آماسیدہ' بنا۔ فارسی میں بطور صیغہ حالیہ تمام اور اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٨٢ء، میں "کلیات علم طب" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سوجا ہوا، آماس کیا ہوا، متورم۔ "انگلیاں آماسیدہ ہو جاتی ہیں۔" ( ١٨٨٢ء، کلیات علم طب، ٥٥٦:٢ )
اصل لفظ: آماسیدن