آملہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک قسم کا کسیلا اور ترش پھل جو رنگ میں انگور سے مشابہ اور جسامت میں آلوچے کے برابر ہوتا ہے، اس درخت کا پھل (مربہ بنانے کے کام آتا اور دواؤں میں استعمال ہوتا ہے)۔ "تازہ آملہ کوٹ کر کپڑے میں رکھ کر نچوڑیں اور اس کو مٹی وغیرہ کے برتن میں ڈال کر آگ پر رکھ کر کسی چیز سے چلاتے رہیں کہ قوام گاڑھا ہو جائے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٤٠٥:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'آ ملک' ہے اس سے ماخوذ اردو میں 'آملہ' مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٧ء میں "مثنوی بہاریہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک قسم کا کسیلا اور ترش پھل جو رنگ میں انگور سے مشابہ اور جسامت میں آلوچے کے برابر ہوتا ہے، اس درخت کا پھل (مربہ بنانے کے کام آتا اور دواؤں میں استعمال ہوتا ہے)۔ "تازہ آملہ کوٹ کر کپڑے میں رکھ کر نچوڑیں اور اس کو مٹی وغیرہ کے برتن میں ڈال کر آگ پر رکھ کر کسی چیز سے چلاتے رہیں کہ قوام گاڑھا ہو جائے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٤٠٥:١ )

اصل لفظ: آملک
جنس: مذکر