آموختہ
معنی
١ - پڑھا ہوا پچھلا سبق۔ "مگر یہ نام اب اس طرح منہ سے نکلتے ہیں جس طرح کند ذہن لڑکے کے منہ سے بھولے ہوئے آموختہ کی لفظیں تھم تھم کے اٹک اٹک کے۔" ( ١٩٣١ء، رسوا، اختری بیگم، ٢٠ ) ١ - سکھایا پڑھایا ہوا، تربیت دیا ہوا۔ اے چشم نہ ہو صحبتِ مردم سے جدا اشک اس طفل کو رہنے دے کہ آموختہ ہووے ( ١٧٧٢ء، فغاں، انتخاب، ١٥٦ ) ٢ - جس پر کچھ پڑھا گیا ہو۔ او یوں بول کر چوب سر سوختہ سٹی ہات تھے جادو آموختہ ( ١٦٤٩ء خاورنامہ، ٥٥٥ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مصدر 'آموختن' سے علامت مصدر 'ن' گرا کر 'ہ' بطور لاحقۂ حالیہ تمام لگانے سے 'آموختہ' بنا۔ فارسی میں صیغہ حالیہ تمام ہے اور اردو میں بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پڑھا ہوا پچھلا سبق۔ "مگر یہ نام اب اس طرح منہ سے نکلتے ہیں جس طرح کند ذہن لڑکے کے منہ سے بھولے ہوئے آموختہ کی لفظیں تھم تھم کے اٹک اٹک کے۔" ( ١٩٣١ء، رسوا، اختری بیگم، ٢٠ )