آمیز

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - ترکیب، جوڑ۔ "فردوسی کے ہاں ایسے مرکبات ہیں جو اسم فاعل اور اسم کی آمیز سے بنتے ہیں۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، ملاقات، ١٧٦ ) ١ - ملاجلا، آمیختہ، باہم حل کیا ہوا۔ "یہ شہر محمد قلی قطب شاہ کے شعر اور بھاگ متی کے سنگیت کا آمیز ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، وہمی، وزیر حسن، ٨٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'آمیختن' سے حاصل مصدر 'آمیزش' سے 'ش' گرانے سے 'آمیز' بنتا ہے جوکہ اردو میں بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ترکیب، جوڑ۔ "فردوسی کے ہاں ایسے مرکبات ہیں جو اسم فاعل اور اسم کی آمیز سے بنتے ہیں۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، ملاقات، ١٧٦ ) ١ - ملاجلا، آمیختہ، باہم حل کیا ہوا۔ "یہ شہر محمد قلی قطب شاہ کے شعر اور بھاگ متی کے سنگیت کا آمیز ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، وہمی، وزیر حسن، ٨٤ )

اصل لفظ: آمیختن