آمیزہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آمیز کیا ہوا، مرکب۔ "ان کی زبان اردو اور انگریزی الفاظ کا ایک عجیب آمیزہ ہے۔"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ٢٤ ) ٢ - کیمیاوی محلول، مکسچر۔ "ہائیڈروجن دو بالکل مختلف نوعیتوں کے سالمات کا آمیزہ ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، طبیعی مناظر، ٧٣٨ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'آمیخن' سے حاصل مصدر 'آمیزش' سے 'ش' گرا کر ہندی قاعدہ کے مطابق 'ہ' بطور لاحقۂ اسمیت مذکر لگانے سے 'آمیزہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩١١ء میں "باقیات بجنوری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آمیز کیا ہوا، مرکب۔ "ان کی زبان اردو اور انگریزی الفاظ کا ایک عجیب آمیزہ ہے۔"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ٢٤ ) ٢ - کیمیاوی محلول، مکسچر۔ "ہائیڈروجن دو بالکل مختلف نوعیتوں کے سالمات کا آمیزہ ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، طبیعی مناظر، ٧٣٨ )

اصل لفظ: آمیختن
جنس: مذکر