آمین
معنی
١ - یا اللہ ایسا ہی کر، ہماری یہ دعا قبول فرما۔ آمین تک زباں سے نکلتی نہیں یہ کیا مغرور اتنا اے دل بے مدعا نہ ہو ( ١٩٢٧ء، آیاتِ وجدانی، ٢٢١ ) ٢ - [ فقہ ] تلاوت یا قرات میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر پڑھنے اور سننے والے کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ۔ 'پھر سورۂ فاتحہ - آخر تک پڑھے اور ختم کرنے کے بعد آہستہ سے آمین کہے۔" ( ١٩٢٤ء، نمازوں کا بیان، خواجہ حسن نظامی، ٣ ) ١ - ختم قرآن شریف کی تقریب جو کسی بچے کے تعلیم قرآن ختم کرنے کی خوشی میں منائی جاتی ہے (جس کی صورت اکثر مسلمانوں کے ہاں یہ ہوتی ہے کہ جب بچہ قرآن پاک کی تعلیم ختم کرتا ہے تو استاد ایک دعا اور کچھ اشعار پڑھتا جاتا ہے اور سننے والے آمین کہتے جاتے ہیں)۔ 'آج ناصر کی آمین ہے۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ١٤٠:١ )
اشتقاق
عربی زبان میں 'امن' سے مشتق ہے اور بطور حرف ندا مستعمل ہے اور اردو زبان میں بطور حرف ندا اور گاہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں 'نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ فقہ ] تلاوت یا قرات میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر پڑھنے اور سننے والے کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ۔ 'پھر سورۂ فاتحہ - آخر تک پڑھے اور ختم کرنے کے بعد آہستہ سے آمین کہے۔" ( ١٩٢٤ء، نمازوں کا بیان، خواجہ حسن نظامی، ٣ ) ١ - ختم قرآن شریف کی تقریب جو کسی بچے کے تعلیم قرآن ختم کرنے کی خوشی میں منائی جاتی ہے (جس کی صورت اکثر مسلمانوں کے ہاں یہ ہوتی ہے کہ جب بچہ قرآن پاک کی تعلیم ختم کرتا ہے تو استاد ایک دعا اور کچھ اشعار پڑھتا جاتا ہے اور سننے والے آمین کہتے جاتے ہیں)۔ 'آج ناصر کی آمین ہے۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ١٤٠:١ )