آنا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - روپے کا سولھواں حصّہ، وہ سکہ جو قیمت میں روپے کے سولھویں حصّے کے برابر ہوتا تھا (برصغیر میں موجودہ اشعاری نظام کے رواج سے پہلے تقریباً 1958ء تک اس کا رواج رہا)۔ "عدم ادائی مبلغ تین سو اکیس روپیہ نو آنا نو پائی۔"      ( ١٨٤٩ء، دستور العمل انگریزی، ٢٥٧ ) ٢ - جائداد وغیرہ کا سولھواں حصّہ۔ "گاؤں میں ایک آنے کا حصّہ دار وہ بھی ہے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٨٤:١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'انس' (حصّہ) ہے۔ اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'آنا' مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٩ء میں "دستور العمل انگریزی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روپے کا سولھواں حصّہ، وہ سکہ جو قیمت میں روپے کے سولھویں حصّے کے برابر ہوتا تھا (برصغیر میں موجودہ اشعاری نظام کے رواج سے پہلے تقریباً 1958ء تک اس کا رواج رہا)۔ "عدم ادائی مبلغ تین سو اکیس روپیہ نو آنا نو پائی۔"      ( ١٨٤٩ء، دستور العمل انگریزی، ٢٥٧ ) ٢ - جائداد وغیرہ کا سولھواں حصّہ۔ "گاؤں میں ایک آنے کا حصّہ دار وہ بھی ہے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٨٤:١ )

اصل لفظ: انس
جنس: مذکر