آندھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سیاہی، تیرگی، (خصوصاً) وہ اندھیرا جو آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ "کبھی جانا ہوتا تھا تو چلتے چلتے آندھ آ جاتی تھی۔"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٤٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں اپنی اصلی حالت اور معنی کے ساتھ ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٨ء میں "صبح زندگی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سیاہی، تیرگی، (خصوصاً) وہ اندھیرا جو آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ "کبھی جانا ہوتا تھا تو چلتے چلتے آندھ آ جاتی تھی۔"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٤٨ )

جنس: مؤنث