آندھی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بہت چست و چالاک، تند و تیز (انسان یا کوئی اور جاندار چیز)۔ "کچھ عرب ہی والے خوب لونڈی غلام رکھتے ہیں، اپنے برابر کھلائیں، پہنائیں، بٹھائیں، بھلا یہاں کہاں، یہاں کام لینے کو آندھی ہیں، باقی روکھی سوکھی جو ملی وہ حوالے کی۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، ٣ ) ١ - گرد و غبار کے ساتھ بہت تیز ہوا، طوفان باد۔  کدھر ہے اے موت? آ، کہ غم سے لبوں پر اب جان آ رہی ہے وہ شمع، جو یادگار شب تھی، اسے بھی آندھی بجا رہی ہے      ( ١٩٢٤ء، نقش و نگار، ١٤٤ ) ٢ - اندھیرا، تاریکی۔ "ایک ایک چیز ڈھونڈنے آندھی روگ آ گیا۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، ١٠٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'آندھ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'آندھی' بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٣٠ء میں "بابرنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہت چست و چالاک، تند و تیز (انسان یا کوئی اور جاندار چیز)۔ "کچھ عرب ہی والے خوب لونڈی غلام رکھتے ہیں، اپنے برابر کھلائیں، پہنائیں، بٹھائیں، بھلا یہاں کہاں، یہاں کام لینے کو آندھی ہیں، باقی روکھی سوکھی جو ملی وہ حوالے کی۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، ٣ ) ٢ - اندھیرا، تاریکی۔ "ایک ایک چیز ڈھونڈنے آندھی روگ آ گیا۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، ١٠٦ )

اصل لفظ: آنْدھ
جنس: مؤنث