آنسہ

قسم کلام: اسم نکرہ ( واحد )

معنی

١ - بے بیاہی خاتون، عموماً کنواری عورت کے نام سے پہلے، انگریزی مس (Miss) کی جگہ مستعمل ہے، جیسے : آنسہ آمنہ خاتون وغیرہ۔ "مس کے لیے آنسہ اس زمانے سے شروع ہوا جبکہ لڑکی اپنے والد کے نام سے پکاری جانے لگی، مثلاً آنسہ مریم فرخندہ علی۔"      ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٥٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں اصل 'انس' سے اسم فاعل (مؤنث) مشتق ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٧٤ء میں "پھر نظر میں پھول مہکے" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے بیاہی خاتون، عموماً کنواری عورت کے نام سے پہلے، انگریزی مس (Miss) کی جگہ مستعمل ہے، جیسے : آنسہ آمنہ خاتون وغیرہ۔ "مس کے لیے آنسہ اس زمانے سے شروع ہوا جبکہ لڑکی اپنے والد کے نام سے پکاری جانے لگی، مثلاً آنسہ مریم فرخندہ علی۔"      ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٥٧ )

اصل لفظ: انس