آنند

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خوش، مگن، بے فکر۔ "جب وہ تپشیا کر کے باہر نکلا اس نے جھک کر سلام کیا وہ بولا بچہ آنند رہو۔"      ( ١٨٩٠ء، فسانہ دلفریب، ١١١ ) ١ - خوشی، مسرت، شادمانی۔ "گائے کے آنے کا آنند تو جب ہے کہ اس کا . قدم بھی اچھا ہو۔"      ( ١٩٣٥ء، گؤدان، ٥٩ ) ٢ - چین، سکھ، آرام، عیش۔ "قسمت مجھ سے یہ آنند کا گھر چھوڑا رہی ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ٨٢:٢ ) ٣ - مزہ، لطف اندوزی۔ "آج یہیں سہ بھوجیہ کا آنند رہے گا۔"      ( ١٩٢١ء، پتنی پرتاپ، ٩٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے غواضی کے "طوطی نامہ" میں ١٦٣٩ء کو مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوش، مگن، بے فکر۔ "جب وہ تپشیا کر کے باہر نکلا اس نے جھک کر سلام کیا وہ بولا بچہ آنند رہو۔"      ( ١٨٩٠ء، فسانہ دلفریب، ١١١ ) ١ - خوشی، مسرت، شادمانی۔ "گائے کے آنے کا آنند تو جب ہے کہ اس کا . قدم بھی اچھا ہو۔"      ( ١٩٣٥ء، گؤدان، ٥٩ ) ٢ - چین، سکھ، آرام، عیش۔ "قسمت مجھ سے یہ آنند کا گھر چھوڑا رہی ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ٨٢:٢ ) ٣ - مزہ، لطف اندوزی۔ "آج یہیں سہ بھوجیہ کا آنند رہے گا۔"      ( ١٩٢١ء، پتنی پرتاپ، ٩٤ )