آنچ
معنی
١ - [ اصلا ] لپٹ، شعلہ۔ سوز غم دے گیا کون سا رشک گل یہ ہوا عشق کی کس چمن میں لگی آنچ دِل سے اٹھی تو جگر تک گئی منہ سے نکلا دھواں آگ تن میں لگی ( ١٩٥١ء، آرزو، ساز حیات، ٣٠ ) ٢ - تپش، گرمی، حدت، حرارت۔ سحر کی تازہ دمی، چڑھتی دھوپ کی گرمی تری نگاہ کی ٹھنڈک ترے شباب کی آنچ ( ١٩٥٩ء، گل نغمہ، فراق، ١٥٦ ) ٣ - [ اصلا ] آگ، آتش۔ "انگیٹھی کی آنچ کم کر کے کھچڑی کو دم کرنے میز پر رکھ دیا۔" ( ١٩٣٥ء، خانم، ٢٠٠ ) ٤ - سخت ضرر رساں چیز پاس سے گزر جانے کی صورت حال (جس سے آدمی اس طرح دور ہٹے جیسے آگ کی حدت سے)، قرب، پرتو، سایہ، عکس، جھلک۔ (بیشتر تلوار کے ساتھ مستعمل)۔ شاق ہے دل پہ غم ابروے خمدار کی آنچ سچ کہا ہے کہ بری ہوتی ہے تلوار کی آنچ ( ١٩٠٠ء، دیوان حبیب، ٧٦ ) ٥ - [ مجازا ] مصیبت، آفت، بلا۔ "ہم غریبوں کو زبردستی اپنی آنچ میں کیوں دھکیلتے ہو۔" ( ١٨٨٨ء، ابن الوقت، ١٠٣ ) ٦ - [ فطری تقاضا - مجازا ] خواہش نفسانی یا شہوت کی شدت (خصوصاً پیڑو کے ساتھ مستعمل)۔ اونکے پیڑو کی آنچ کو شاباش اک نئے دھگڑے کی ہے روز تلاش ( ١٨٧٣ء، کلیات منیر، ٥٩٣:٣ ) ٧ - بھوک کی شدت۔ "بھوک کی آنچ سے میں نے بھی اپنے پریم کی چتا پھونک دی۔" ( ١٩٥٦ء رادھا اورنگ محل، ٣٢ ) ٨ - [ مجازا ] مادی یا پدری محبت کا جوش، مامتا (بیشتر اولاد یا کوکھ وغیرہ کے ساتھ)۔ کانٹے زبانوں کے مرے دِل میں کھٹکتے ہیں کیا آتما کی آنچ سے شعلے بھڑکتے ہیں ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ٣٠ ) ٩ - [ مجازا ] تاؤ، جوش۔ نشہ ازل کا آج سوا ہوا تو لطف ہے دو تین آنچ کی جو عطا ہو تو لطف ہے ( ١٩٠١ء، مرثیہ سلیم (مولوی اولاد حسن)، ٧ ) ١٠ - نقصان، ضرر، صدمہ۔ (امیراللغات، 185:1) ١١ - [ مجازا ] سوز عشق، سوزش فراق۔ آنچ میں ڈالا گیا تیرا دلِ با وفا ( ١٩٢٧ء، سریلے بول، ٦٩ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'اکشِرس' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'آنچ' مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٦٥ء میں "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - [ اصلا ] آگ، آتش۔ "انگیٹھی کی آنچ کم کر کے کھچڑی کو دم کرنے میز پر رکھ دیا۔" ( ١٩٣٥ء، خانم، ٢٠٠ ) ٥ - [ مجازا ] مصیبت، آفت، بلا۔ "ہم غریبوں کو زبردستی اپنی آنچ میں کیوں دھکیلتے ہو۔" ( ١٨٨٨ء، ابن الوقت، ١٠٣ ) ٧ - بھوک کی شدت۔ "بھوک کی آنچ سے میں نے بھی اپنے پریم کی چتا پھونک دی۔" ( ١٩٥٦ء رادھا اورنگ محل، ٣٢ )